Press "Enter" to skip to content

قصور میں زینب کا قصور کیا تھا

admin 0

محسن شیخ

پاکستان میں بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی کے رجحان کی بنیادی وجہ گندی انڈین فلمیں دیکھنا پورن دیکھنا پھر ہمارے مارننگ شوز میں آج کل عریانی کو کثرت سے دیکھانا تعلیم کا فقدان بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور پھر نکمی حکومت کا شامل ہونا۔ مجرموں کی سرپرستی کرنا شامل ہیں۔
آج افسوس اس بات کا ہے ہم انسانوں میں آنسانیت کا فقدان ہیں۔ انسان ہی انسان کا سب سےبڑا دشمن ہیں۔ سفاک درنده ننھی معصوم زینب کی معصوميت کو ہی دیکھ لیتا. قصور میں ننھی زینب کا کیا قصور تھا۔ پوری قوم کا سر شرم سے جھک چکا ہیں۔ انتہائی شرم کا مقام ہے کہ زینب کے ساتھ زیادتی کا مجرم کوئی غیر مسلم یا غیر ملکی نہیں زینب کا قاتل کوئی زینب کا رشتے دار ہی معلوم ہوتا ہے۔

انسان ہی انسانیت کو روند رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انسانوں کے روپ میں درندوں کی بھرمار ہیں حرم میں بیٹھے زینب کے والدین زینب کی زندگی سلامتی اور خوشیوں کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ اور ادھر وحشی درنده ننھی زینب کی سانسوں کی ڈور کاٹ رہا تھا۔ یہ قتل زینب کا نہیں پورے معاشرے کا قتل ہیں۔

پنجاب میں ایک سال میں حوا کی بیٹیوں کے ساتھ گیاره واقعات ہو چکے ہیں۔ حوا کی بیٹیوں کی عزتیں چھین کر ان سے زندگیاں چھینی جا چکی ہیں۔ حوا کی بیٹیوں کی اب جانیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ زینب سے پہلے بھی کئی حوا کی بیٹیاں اپنی عزتیں لوٹنے کے ساتھ موت کے منہ میں جا چکی ہیں۔ زینب قتل کے دو ہفتے بعد حوا کی بیٹیوں کا قاتل قانون کی گرفت میں آ گیا ہے۔ تو سوال اب یہ بنتا ہے کہ زینب اور دیگر بچیوں کا قاتل اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے گا یا نہیں ؟

اس سے بڑھ کر اور کیا قیامت ہوگی کہ زینب کا قاتل زینب کے پڑوس میں ہی موجود رہا۔ انکے درمیان چلتا پھرتا رہا۔ اور قاتل بھی زینب کا دور کا رشتے دار ہی نکلا ہے۔ جب اپنوں کا خون ہی سیاہ ہوجائے تو غیر کے کیا کہنے۔ اور سب سے بڑھ کر قاتل کو کسی نہ کسی کی سرپرستی حاصل ہیں۔ جس کی بنا پر قاتل زینب سمیت آٹھ ننھی معصوم کلیوں کو روند چکا ہیں۔ یاد رہے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے۔

زیادتی کے واقعات میں زندہ بچ جانے والی حوا کی بیٹیاں آج تک انصاف کی منتظر ہیں۔ بے حسی کا مقام ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ
انسانوں کے ہجوم میں انسانیت گھٹتی جارہی ہیں۔ درندگی فروغ پا رہی ہیں۔ انصاف تو کب کا مٹ چکا ہے۔ مظلوموں کو پہلے ہی انصاف نہیں ملا تو اب کیسے انصاف ملے گا۔ اس سے قبل زیادتی کے معتدد واقعات ہوچکے ہیں پر زیادتی کے اس مجرم کے خلاف پہلے ہی سے ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ یہ سوالیہ نشان ہے حکومت کو سوائے اپنے مفادات کے کسی کی عزت آبرو اور جان کی پروا نہیں ہیں۔ موجودہ حکمران مدت پوری کرنے چوتھی باری لینے کی جدوجہد میں مصرف ہیں۔

میڈیا پر پریس کانفرنسیں کی جارہی ہیں۔ جس میں زینب کے قاتلوں کو سزا دلوانے انصاف فراہم کرنے کے دعوے کیے جائے گے۔
پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہیں۔ پر افسوس کہ یہ حکمرانوں کی لونڈی بن چکی ہیں۔ یہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے کے بجائے حکمرانوں کا تحفظ کرتی ہیں۔

حکمرانوں کو تو تحفظ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ظلم ہمیشہ غریب کمزورں مظلوموں پر ہی ہوتے ہیں۔ اشرافیہ پر نہیں ہوتے۔ مظلوم اگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج مظاہرے کرتے ہیں۔ تو فوراً پولیس مظاہرین پر فائرنگ کر دیتی ہیں۔ زینب قتل پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر قصور کی پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اصل قاتل قانون کی گرفت سے آزاد رہے گے۔ اور اگر پکڑے بھی جاتے ہیں۔ تو سزا سے بچ جاتے ہیں۔ اسکی واضح مثال موجود ہیں۔ شازیب کا قاتل شارخ جتوئی سیالکوٹ کے دو معصوم بھائی جنہیں محلے کے اندر اثر و رسوخ کے تحت قتل کیا گیا۔ آج تک انکے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔
میڈیا پر حسب معمول خبریں چلے گی ۔ ٹاک شوز میں تبصرے ہونگے۔ اہل قلم بھی اپنی تحریروں میں غم و رنج کا اظہار کرکے سب آخرکار خاموش ہوکر اپنی اپنی زندگیوں میں مصرف ہوجائے گے۔
آہستہ آہستہ زینب کا قصہ ماضی کا قصہ بن جائے گا۔۔۔ زینب کے والدین تڑپتے رہے گے۔ اس امید پر کہ قاتل کب منطقی انجام کو پہنچے۔ قاتل کی گرفتاری کے بعد اب تفتیش کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ تفتیش میں نت نئے انکشافات ہوتے رہے گے۔ یہ نظام یہ سلسلے یونہی چلتے رہے گے۔
اسی لا قانونیت کے سائے تلے بڑے سے بڑا سانحہ ہمارا منتظر ہوگا۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک معصوم بچے بچیاں زیادتی کا شکار ہوتے جائے گے۔ مظلوم کمزور ہوتے جائے گے۔ ظالم مزید طاقت ور ہوتے جائے گے۔جہاں مجرموں کی پشت پناہی ہوگی۔ وہاں درندگی کی انتہا ہوگی۔

جس معاشرے میں لا قانونیت ہوگی وہاں اس طرح کے واقعات حسب معمول ہوتے رہے گے۔ معاشرہ قوموں سے بنتا ہے۔ ہم با حثیت قوم احتجاج تو کرتے ہیں۔ مگر معاشرہ بدلنے اس بوسیدہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہر المناک واقع پر ہم میڈیا سوشل میڈیا پر سڑکوں پر خوب اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ اور پھر
بڑھ چڑھ کر خوب بحث و تکرار بھی کرتے ہیں۔
مگر خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم ظلم کے خلاف آواز تو اٹھاتے ہیں۔ مگر ظلم کا خاتمہ نہیں کرتے۔ ظلم کا خاتمہ جب تک نہیں ہوگا۔ جب تک ہم خود ظلم کے خلاف ڈٹے گے نہیں۔
آخر کب تک ہم یونہی کٹھ پتلیوں کا تماشہ
بنے رہے گے۔ کب تک ہم اپنی آنکھوں سے معصوم بچے بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنتے دیکھتے رہے گے۔ آخر کب تک ہم ننھی جانوں کے جنازے اٹھاتے رہے گے۔ کب تک ہم حکمرانوں کے ایکشن لینے کی نیوز سنتے رہے گے۔ کب تک ہم انکے جھوٹے بیانات پر یقين کرکے چپ رہے گے۔
حکمرانوں اور انکی بنائی ہوئی پولیس کے رویے نہ کبھی پہلے بدلے ہیں۔ اور نہ اب بدلے گے۔ ضرورت اس امر کی ہیں ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ اس نظام کو بدلنا ہوگا۔ اس بوسیدہ مورثی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ہمیں درست طرز جمہوری حق و انصاف کے نظام کا انتخاب کرنا ہوگا۔

قوم کی یاداشت بہت کم ہے دیکھنا کچھ دنوں بعد سب زینب کی المناک سانحہ کو بھول کر اپنی زندگیوں میں مگن ہوجائے گے۔ ہر سال شمعدان روشن کرکے زینب کی یاد کو تازہ کیا جائے گا۔
کبھی ایمان مرتی ہے
کہیں پہ زینب لٹتی ہے۔
کیوں میرے دیس میں ایسے۔
یوں بنت حوا مرتی ہے۔
یہاں پہ ابن آدم کیوں بنا ہے حیوان آخر
نہ اسکی آنکھ جھکتی ہے۔
نہ اس کی ہوس مرتی ہے۔
یہ ہوس و جنس کا وحشی
کیوں ایسے ظلم ڈھاتا ہے۔
نہ اسکا دل تڑپتا ہے۔
نہ ہی ایسے خدا یاد آتا ہے۔
میرے لبوں پر فریاد ہے۔
میری روح تھک چکی ہے مولا
میں جہاں بھی دیکھو۔
ہر سمت خون کی بو ہے۔۔

PropellerAds